چنگیر



کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں ہمارے علاقے کی ثقافت کی ایک علامت تصور کی جاتی ہیں، کھجور کے پتوں سے تیارکردہ چنگیریں اپنے اندر سادگی اور خوبصورتی کا حسیں امتزاج رکھتی ہیں۔ ان کی دو اقسام ہوتی ہیں سادہ چنگیریں اور رنگین چنگیریں۔ سادہ چنگیروں میں کھجور کے عام پتے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ رنگین چنگیروں میں کھجور کے پتوں کو مختلف رنگوں میں رنگ کر مہارت کے ساتھ اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ یہ دیکھنے میں انتہائی خوبصورت نظر آتی ہے۔ دیہاتوں میں اب بھی مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کھانا چنگیروں میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، البتہ جو لوگ شہری رکھ رکھاؤ کے عادی ہیں وہ ڈنرسیٹ اور پلاسٹک یا شیشے کے برتنوں میں کھانا پیش کرنا قابل فخر بات سمجھتے ہیں، جبکہ چنگیروں میں کھانا پیش کرنا ہمارے علاقے کی روایت اور ثقافت ہے اس سے ایک تو سادگی کا تاثر ملتا ہے دوسرا اگر ایک طرف قیمتی ڈنرسیٹ ہوں اور دوسری طرف سادہ چنگیروں میں کھانا موجود ہو تو تہذیب و ثقافت کے اظہار کے طور پر چنگیروں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔
ہمارے وسیب میں چنگیریں گھروں میں تیار کی جاتی ہیں، اور ان کی فروخت سے نسبتا کم منافع حاصل کیا جاتا ہے، آج کے جدید دور میں بھی چنگیریں دکانوں پر فروخت ہوتی نظر آتی ہیں، دیہات والے رشتے دار جب بھی شہر آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چنگیروں کا تحفہ لازمی ساتھ لاتے ہیں، کچھ لوگ تو خاص تو فرمائشی طور پر بھی چنگیریں بنواتے ہیں۔
چنگیر کی تیاری میں تازہ کھجور کے پتے استعمال ہوتے ہیں، چنگیروں میں بنائے گئے خوش نما ڈیزائن آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں اور ان کی خوبصورتی سے بنانے والے کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض چنگیروں کے کنارے پر لہریے دار ڈیزائن بھی بنا دیا جاتا ہے، اور بعض کے درمیان میں ایک ایک پھول بنا دیا جاتا ہے جس سے اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے، چنگیروں کے علاوہ کھجور سے پتوں سے تیارکردہ ناشتہ دان بھی اپنے مثال آپ ہیں ان میں کھانا رکھا جاتا ہے یا کھانا کہیں لے جانے میں استعمال ہوتا ہے، چنگیریں ہمارے ثقافت کا حصہ ہیں مگر شہروں میں یہ روایت ختم ہوتی جا رہی ہے اب ان کی جگہ ڈنرسیٹ، پلاسٹک یا شیشے کے برتن لے رہے ہیں البتہ دیہاتوں میں اب بھی چنگیریں ہمارے کلچر اور تہذیب کی علامت کے طور پر تیار کی جاتی ہیں۔


چنگیر کھجور کے سوکھے پتوں سے بھی بنائی جاتی ہے۔ ان پتوں کو پہلے پانی بگھو کر نرم کرلیا جاتا ہے تاکہ بغیر ٹوٹے یہ پتے لپٹے جائیں۔ ان پتوں کے اندر چھلکے ہوتے ہیں اب ہمیں یہ یاد نہیں رہا کہ یہ کس چیز کے ہوتے ہیں۔
چنگیر کو مزید خوبصورت بنانے کیلیے اس کے گرد کپڑے کے پھول بھی لگائے جاتے ہیں۔
گجرات کے علاقے میں بڑے سائز کو چنگیر کہتے ہیں جس میں روٹیاں پکا کر رکھی جاتی ہیں یا پھر تندور سے لگوا کر لائی جاتی ہیں۔ بڑے سائز کو اکثر آٹے پر برتن کو کور کرنے کیلیے اس کے اوپر بھی ڈال دیا جاتا ہے۔
چھوٹے سائز کو چھابہ کہتے ہیں جس میں روٹی کھانے والے کو پیش کی جاتی ہے۔ آپ کی تصاویر میں چھوٹے سائز یعنی چھابے نظر آرہے ہیں مگر بڑے سائز کی چنگیر نظر نہیں آرہی۔
میرا پاکستان’s last blog post..وعدے جو ایفا نہ ہو سکے
ہمارے یہاں تو مزری کی چنگیریں استعمال کی جاتی ہیں۔ کھجور کے پتے ہمارے یہاں دستیاب نہیں ہوتے۔
شکریہ منیر صاحب اس خوبصورت تحریر کیلیئے۔
چنگیر ہماری ثقافت کا ایک حصہ ہیں اور خوبصورت چنگیر واقعی آنکھوں کو بھلے اور خوشنما لگتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم آہستہ آہستہ اپنی تہذیب اور ثقافت سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
محمد وارث’s last blog post..غزل - صوفی غلام مصطفی تبسم
میری نانی چھابیاں اور چنگریریں باندھا کرتی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں بہت صفائی تھی۔ ہمیں بھی یہ ہر سال ملا کرتی تھی اب وہ بہت ضعیب ہوگئی ہیں تو بازار سے ایک آدھ لے لیتے ہیں ورنہ پلاسٹک کی چھابی چلتی ہے گھر میں۔