جنوبی پنجاب کے مسائل
جنوبی پنجاب ایک پسماندہ اور دیہی آبادی پر مشتمل قطعی اراضی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ یہاں کے کاشت کاروں کو نہری پانی کی کمی اور شہریوں کو پینے کے صاف پانی کا مسئلہ عرصہ سے چلا آ رہا ہے۔ جب کہ تعلیم اور صحت دو ایسے سیکٹر ہیں جنہیں عرصہ دراز سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تقریبا ٥٦ سال قبل ١٩٥٢ میں ملتان کی چار لاکھ کے لگ بھگ آبادی کے علاج معالجہ کے لئے نشتر ہسپتال قائم کیا گیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر مریضوں کا دباؤ بڑھتا چلا گیا اور اب یہ نہ صرف جنوبی پنجاب کے تین سابق ڈویژن ڈیرہ غازیخان، بہاولپور، ملتان بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور بلوچستان کے متعدد اضلاع کے لئے واحد آپشن ہے۔ جنوبی پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کے ہسپتالوں کی فوری اپ گریڈیشن اور کنسلٹنٹس کی تعیناتی بھی انتہائی توجہ طلب مسئلہ ہے۔
ڈیرہ غازی خان میں میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ انتہائی دیرینہ ہے۔ کپاس اور گندم کی پیداوار میں اس خطے کا کوئی ثانی نہیں لیکن کسانوں کو بجلی، پانی، کھاد اور بیج سمیت کسی بھی چیز پر آج تک کوئی ریلیف اور سبسڈی نہیں دی گئی۔ زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی ٹیوب ویلوں پر فلیٹ ریٹ کا اطلاق اہم ترین مطالبہ ہے۔ چولستان میں الراضی کی الاٹمنٹ مقامی افراد کا حق ہے۔
شاہرات اور پل ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کی بیشتر سڑکیں اور پل انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ڈیرہ تا ملتان شاہراہ نہ صرف اس ریجن بلکہ بلوچستان کی مارکیٹ کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے دو رویہ کرنے کا مطالبہ سالہا سال پرانا ہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے اسے نظر انداز کئے رکھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے ڈیرہ غازی خان انڈس ہائی وے کی مدت و بحالی، مظفر گڑھ سے ہیڈ پنجند قومی شاہراہ کی ازسرنو تعمیر، دریائے چناب پر جلال پور پیروالا کے مقام پتن ایمن والا کی تکمیل، دریائے سندھ پر نشتر گھاٹ کے مقام پر کوٹ مٹھن اور چاچڑاں شریف کے درمیان پل کی تعمیر، ٹبی قیصرانی اور لیہ کے درمیان دریائے سندھ پر پختہ پل، ہیڈ محمد والا پر پل کی تعمیر سمیت شاہرات کے دیگر منصوبوں پر توجہ کی فوری ضرورت ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور اضلاع کا لاکھوں ایکڑ زرخیز رقبہ نہری پانی سے محروم ہے۔ اس حوالے سے داجل کینال کی توسیع اور چشمہ لفٹ اری گیشن سکیموں کے لئے متعدد سروے ہو چکے ہیں جن کی منظوری اور تکمیل سے زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ راجن پور، جام پور، علی پور کے علاوہ ڈھوڈک پلانٹ اور فلیڈ سے محلقہ آبادیوں کو ترجیحی بنیادوں پر قدرقی گیس فراہم کی جائے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں رودکوہیوں کے پانی کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے منصوبہ کی منظوری اور عملدرآمد سے دونوں اضلاع کی ١٠ لاکھ ایکڑ سے زائد بنجر اراضی کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اپنے قیام سے لیکر آج تک ڈیرہ غازی خان ایئرپورٹ کی توسیع نہیں کی گئی اور ایئرپورٹ نائٹ لینڈنگ کی سہولت سے بھی محروم ہے۔ نومنتخب وزیراعلٰی سردار دوست محمد خان کھوسہ کو اللہ نے موقع فراہم کیا ہے کیونکہ ان کے وزیراعلٰی بننے کے بعد علاقے کی عوام نے ان سے تواقعات وابستہ کر لی ہیں کہ وہ ڈیرہ غازی خان اور خاص کر جنوبی پنجاب کے دیرینہ مسائل حل کرانے میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے۔


اللہ کرے کہ انھیں عقل آجائے۔