ضلع ڈیرہ غازی خان اپنے محل وقوع، سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھانی زبان کے ساتھ علاقائی تہذیبوں کا سنگم ہونے کی وجہ سے پاکستان کی وحدت کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس کی اس حیثیت کے باوجود اس علاقے کو اب تک کی حکومتوں نے مسلسل نظرانداز کئے رکھا جس کی وجہ سے یہ ضلع اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کر سکا اور ہر معاملے میں پسماندہ ہے، ڈیرہ غازی خان کو قومی اسمبلی میں دو تین دفعہ دارالحکومت بنانے کی تجویز پیش کی گئی، کیونکہ چاروں صوبوں کا مقام اتصال ہونے کے علاوہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس کہ دارالحکومت تو بہت دور کی بات ہے اس ضلع کو اس کے جائز حقوق بھی نہیں دیئے گئے۔ اسلام آباد، آزادکشمیر اور اس کے گردونواع میں آنے والے حالیہ زلزلے کے بعد ایک بار پھر یہ افواہ زیرگردش ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو دارالحکومت بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں مگر بات وہی ہے کہ ‘ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک،۔
ضلع ڈیرہ غازی خان کی عوام نے یہاں کے سیاستدانوں کو عروج تک پہنچایا، فاروق احمد خان لغاری صدارت کی سیٹ پر، ذوالفقار علی خان کھوسہ سینئروزیر پنجاب اور گورنر پنجاب کی سیٹ پر فائز رہے چکے ہیں مگر اس کے باوجود ترقی ڈیرہ غازی خان کو چھو تک نہیں گزری سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کے دور میں ڈیرہ غازی خان میں کچھ کام ہوا اس کے بعد سے اب تک ایک طویل خاموشی چھائی ہوئی ہے، جسے صدر پرویز مشرف کی روشن خیالی اور شوکت عزیز کی جدیدیت بھی دور نہ کر سکی۔
یہ تو تھا ڈیرہ غازی خان کا مختصر سا تعارف، اب آئیے ڈیرہ غازی خان کی تاریخ کی طرف۔
ڈیرہ غازی خان کی تاریخ بہت پرانی ہے، اس علاقے میں کئی سوسال پہلے کی تہذیبوں کے آثار اب بھی پائے جاتے ہیں، موہنجوداڑو اور ہڑپہ کی طرح ڈیرہ غازی خان بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے، اس میں موجود کھنڈرات کی اگرچہ کھدائی نہیں ہوئی لیکن اوپر کی تہہ سے حاصل ہونے والی اشیاء کئی ہزار سال پہلے کی داستان سنا رہی ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کی باقاعدہ تاریخ اور حوالہ جات سکندراعظم کے حملے سے پہلے کے زمانے کے نہیں ملتے کیونکہ آریاؤں نے یہ علاقے تباہ کر دیئے تھے سکندراعظم کے حملہء ہندوستان کے وقت اس علاقے پر داریوش نامی ہندو بادشاہ کی حکومت تھی، سکندراعظم ہندوستان میں لوٹ مار اور اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اس علاقے سے گزرا، اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس نے کوٹ مٹھن کے قریب سے دریائے سندھ کو عبور کیا اور ڈیرہ غازی خان میں داخل ہوا۔ ان دنوں ڈیرہ غازی خان کا علاقہ داریوش نے اپنی چہتی بیٹی نوشابہ کو دے دیا تھا، کہا جاتا ہے کہ نوشابہ سکندراعظم کی بیوی بنی۔
سکندراعظم کی واپسی کے دو سال بعد پنجاب اور سندھ میں بغاوت کر کے سکنداعظم کی حکومت ختم کر دی گئی، اس بغاوت کا روح رواں مگدہ کے راجہ کا باغی جرنیل چندرگپت موریا تھا، چندرگپت موریا اس علاقے کا حکمران بن گیا، چندرگپت کے خاندان کی حکومت اس وقت ختم ہو گئی جب حکمران کو اس کے جرنیل پشپامتر نے ١٨٨ ق م میں قتل کر دیا چندرگپت کے خاندان کے بعد تاریخی کڑیاں پھر گم ہو جاتی ہیں لیکن اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ ١٨٨ق م سے لیکر پانچویں صدی تک اس علاقے میں باختری، یونانی، پارتھین، ساکا، کشان، حیطال، ہن، گوجر، ساسانی اور مانی نام کے خاندانوں کی حکومت رہی۔ مانی خاندان کے خاتمے پر یہ علاقے ایرانی سلطنت میں شامل ہو گئے، پانچویں صدی کے آخر میں ایرانی سلطنت کمزور پڑ گئی جس کی وجہ سے یہاں رائے خاندان نے بغاوت کر کے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ رائے خاندان کا پایہ تخت ایلور (اروڑ) تھا جس کے کھنڈرات آج بھی جامپور میں داجل کے قریب موجود ہیں۔ رائے خاندان کی حکومت کے وقت ملتان سے لیکر کشمیر تک کے علاقے پر چج نامی خاندان کی حکومت تھی۔ چج حاکم نے آخری رائے حکمران کی رانی سے شادی کر لی اور یوں چج اس علاقے کا حکمران بن گیا یہ واقعہ ٦٣١ء کا ہے۔ چج نے باقی تمام زندگی اس علاقے کی ترقی میں گزاری۔ چج نے اس علاقے پر چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک حکمرانی کی۔ چج کے بعد چج کا بھائی چندا اس علاقے کا حکمران بنا۔ چندا کی موت کے بعد اس کا بھتیجا اور چج کا بیٹا داہر حکمران بنا۔ داہر ایک ظالم شخص تھا۔ اس نے عربوں کا ایک جہاز لوٹ لیا، اس پر حجاج بن یوسف ثقفی نے اپنے بھتیجے عمادالدین کو داہر کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ عمادالدین تاریخ میں محمد بن قاسم کے نام سے مشہور ہے۔ محمد بن قاسم نے ٧١١ء میں داہر کا پایہ تخت الور فتح کر لیا، اس طرح برصغیر میں اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ محمد بن قاسم کو عبدالملک نے بلا بھیجا اور ذاتی عناد کی بنا پر قید میں ڈال دیا اور اسی قید میں ہی برصغیر میں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا محمد بن قاسم فوت ہو گیا۔ برصغیر میں اسلامی مملکت کے قیام کے بعد چالیس برس تک سندھ اور اس علاقے کے لئے حکمران بغداد سے آتے رہے کیونکہ امیوں نے اس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، لیکن عباسیوں کے سلطنت کے قبضے کے بعد سندھ پر بغدادی حکومت کی گرفت کمزور پڑ گئی، کمزور نظم و نسق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں قرامطی عرب قابض ہو گئے جن کا مرکز ملتان تھا۔ جس وقت سبکتگین غزنی کا حکمران تھا اس وقت اس علاقے پر حمید لودھی کی حکومت تھی۔ حمید لودھی سبکتگین کے خلاف ملتان کی حکومت کی تمام پونجی جے پال کے حوالے کر دیتا اور اس کے ساتھ مل کر سلطنت غزنی کے علاقوں میں لوٹ مار کرتے، تنگ آ کر سبکتگین نے ملتان پر حملہ کر دیا، جےپال کو شکست کا سامنا کرنا پڑااور حمیدلودھی نے خراج کے عوض صلح قبول کر لی۔ اس صلح کے نتیجے میں وہ ہر سال غزنی حکومت کو خراج دیا کرتا تھا لیکن حمیدلودھی کا پوتا ابوالفتح داؤد ہندو راجہ اننگ پال کی حمایت کرنے لگا اور دونوں مل کر محمود غزنوی کے علاقوں میں لوٹ مار مچانا شروع کر دی۔ آخر محمود غزنوی نے ملتان پر حملہ کر دیا، ابوالفتح داؤد بھاگ گیا۔ اہل شہر کو امان ملی، مگر سلطان محمود غزنوی کے حکم پر قرامطیوں کا قتل عام ہوا۔ سلطان نے ملتان کا الحاق غزنی سے کر دیا۔ محمود غزنوی کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سلطان محمود حکمران بنا مگر نو سال کے بعد اسے قتل کر دیا گیا اس کے بعد سات حکمران اور بنے مگر سب یکے بعد دیگرے یا تو قتل ہوئے یا طبعی موت مر گئے۔ سلطان شہاب الدین غوری جب حمکران بنا تو اس نے دہلی فتح کر لیا اور ڈیرہ غازی خان کے علاقے کو دہلی کے ساتھ شامل کر لیا۔

١١٢٥ء میں چنگیز خان سلطان جلال الدین خوارازم کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ کے کنارے پہنچ گیا۔ سلطان جلال الدین اور اس کے بقیہ ساتھیوں نے گھوڑوں کے ذریعے دریا عبور کیا مگر تاتاری اتنے بڑے دریا کو عبور کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ چنگیز خان کی آمد کے بعد یہ علاقہ تاتاریوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ اگرچہ بلبن عہد حکومت میں غیاث الدین بلبن اور علاؤالدین بلبن نے سرحدی چوکیوں کو مضبوط کر دیا تھا مگر یہ چوکیاں مغربی کنارے پر تھیں اس لئے سندھ کا مشرقی کنارہ اور ادھر کا سارا علاقہ مختلف قبیلوں میں بٹ گیا۔
١٣٩٢ء تیمور کے پوتے پلیرمحمد نے ملتان پر قبضہ کر لیا اور سندھ کے تمام مغربی کناروں پر قابض ہو گیا۔ اس اثناء میں تیمور دہلی پر حملہ آور ہوا اور جاتے وقت تمام خزانے ساتھ لے گیا۔ تیمور کے حملے کے بعد ہندوستان میں مستقل حکومت قائم نہ ہو سکی۔ ڈیرہ غازی خان میں ابوالفتح لودھی کے خاندان نے سر اٹھایا۔ ابوالفتح کے خاندان کے لوگ ناہڑ، بارکھان، ہڑند، داجل، کن پور اور سیت پور کے علاقوں میں رہتے تھے۔ ان میں عیٰسی خان نے ناہڑ، کن پور اور سیت پور پر جبکہ بہادر خان نے ہڑند اور داجل کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور اپنی حکومت قائم کر لی۔ بہادر خان کی حکمرانی کے کچھ عرصہ بعد اس علاقے سے ایک شخص محمد خان اپنے خاندان کے ساتھ ٹھٹھہ چلا گیا اور والیء ٹھٹھہ کی ملازمت اختیار کر لی۔ والیء ٹھٹھہ نے محمدخان سے خوش ہو کر اس کو رانی کے علاقے کا امیر بنا دیا، اس وجہ سے اس کی اولاد امیررانی کہلانے لگی جو بعد میں مررانی کہلانے لگے۔ محمدخان کے بیٹے حاجی خان نے دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی اور اس علاقے کا حاکم بن گیا۔
حاجی خان بہت ذہین اور عقلمند آدمی تھا، اس نے اپنے تدبر اور فراست سے ہڑندوداجل سے لیکر شمال میں کالا تک کا علاقہ فتح کر لیا، حاجی خان نے ١٤٧٤ء یا ١٤٧٦ء میں اپنے نامور اور بہادر بیٹے غازی خان کے نام پر دریائے سندھ کے کنارے ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ غازی خان اول نہایت شفیق فطرت کا اور قابل حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ قرآن بھی تھا۔ غازی خان اول نے ١٤٩٠ء اور ١٤٩٤ء کے درمیانی عرصہ میں وفات پائی۔ غازی خان اول کی وفات کے بعد اس کی اولاد چودہ پشتوں تک اس علاقے پر حکمران رہی اور حاجی خان اور غازی خان کے القاب اختیار کئے۔
حاجی خان ہفتم نے وفات کے وقت اپنے وزیر گوجر خان کے ہاتھ میں اپنے سات سالہ فرزند غازی خان ہفتم کا ہاتھ دے کر اس کی حفاظت اور پرورش کی ہدایت کی مگر اس کی وفات کے بعد گوجر خان کی نیت بدل گئی اور اس نے غازی خان ہفتم کو قید کر کے غلام شاہ کلہوڑہ کے حوالے کر دیا۔ غلام شاہ کلہوڑہ غازی خان ہفتم کو قید کر کے سندھ لے گیا جہاں غازی خان ہفتم نے غریب الوطنی میں ٦ سال کی قید کے بعد ١٣ سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس طرح گوجرخان اس علاقے کا حکمران بن گیا اور تیس برس تک اس علاقے پر حکومت کی۔
نادر شاہ دہلی فتح کرنے کے بعد ١٧٣٩ء میں ڈیرہ غازی خان آیا۔ گوجر خان نے اس کی حمایت کی، نادرشاہ نے واپسی پر گوجر خان کو جانثار کا لقب دیا اور اس علاقے کو اپنی عملداری میں شامل کر کے گوجر خان کو اس علاقے کا امیر مقرر کیا۔ ١٧٤٧ء میں نادرشاہ قتل ہوا تو پنجاب کی حکومت احمدشاہ ابدالی کے قبضے میں آئی۔ مرہٹوں نے احمدشاہ ابدالی کے بیٹے کو لاہور سے نکال کر پورے مشرقی پنجاب پر قبضہ کر لیا اور اکثر علاقے تباہ کر دیے۔ اس کے جواب میں احمدشاہ ابدالی نے پنجاب پر دوبارہ حملہ کیا اور پنجاب کو مرہٹوں سے آزاد کرا لیا۔ ١٧٦١ء میں پانی پت کی تیسری میں احمدشاہ ابدالی نے مرہٹوں کی طاقت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا۔ واپسی پر احمدشاہ ابدالی نے داجل اور ہڑند کا سارا علاقہ والیء قلات میرنصیرخان کو دے دیا۔ کن پور اور روجھان کے علاقے سندھ میں شامل ہوگئے۔ سیتپ پور اور راجن پور کی جاگیر راجو نامی سپاہی کے حوالے ہوئی۔ اسی راجو نے راجن پور آباد کیا۔ احمدشاہ ابدالی کی وفات کے بعد سکھوں نے پنجاب میں اپنی طاقت بڑھا لی اور ١٨٦٤ء میں ملتان اور ١٨٣١ء میں ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح یہ علاقے دربارلاہور کے زیرتسلط آ گئے، سکھ آگے بلوچستان کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے تھے مگر بلوچوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو ڈیرہ غازی خان سے آگے نہ بڑھنے دیا، اسی دوران ملتان میں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو گئے، سکھ ملتان کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک مقامی سردار جس کا نام کوڑا خان تھا ڈیرہ غازی خان پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت انگریز پورے برصغیر میں چھائے ہوئے تھے۔ کوڑا خان نے یہ علاقہ انگریز عملداری میں دے دیا۔ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا الحاق ١٨٧٢ء میں ہوا۔
انگریزوں کی سوسالہ دورحکومت میں ڈیرہ غازی خان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اس کی پہلے کی سی خوبصورتی باقی نہ رہی۔ مررانی عہدحکومت میں شہر ڈیرہ غازی خان مغربی پنجاب میں ملتان کے بعد سب سے خوبصورت شہر تھا اور صنعت وحرفت کی تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ مررانی عہدحکومت میں زراعت پر خاص توجہ دی گئی تھی اور کئی نہریں بھی کھدوائی گئی تھیں۔ شہر میں ایک قلعہ بھی تعمیر کرایا گیا، مررانی عہد کا وہ شہر ١٩١٠ء میں دریائے سندھ کی موجوں کی نظر ہوا، جس کی پیشین گوئی بہت پہلے کی گئی تھی، اس پیشین گوئی میں یہ ہدایت بھی شامل تھی کہ غازی خان اول اپنا مقبرہ موجودہ ڈیرہ غازی خان میں بنوائے کیونکہ پیشین گوئی کے مطابق نیا شہر مقبرے کے چاروں طرف پھیلے گا اور ایسا ہی ہوا۔ نیا شہر چورہٹہ کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ غازی خان کا مقبرہ چورہٹہ میں آج بھی موجود ہے۔ یہ ہشت پہلو قلعہ نما مقبرہ ہے جس کی اوپر کی دو منزلیں زلزلہ کی وجہ سے گر گئی تھیں، اس مقبرے کے گردا گرد ایک فصیل بنائی گئی تھی اور ایک خوبصورت باغ بھی تھا جو کب کے ختم ہو چکے ہیں، اب اس جگہ قبرستان ہے، کبھی کبھی قبریں کھودتے وقت فصیل کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جب مقبرہ تعمیر ہوا تو تقریبا بارہ فٹ اونچا تھا مگر امتداد زمانہ کے باعث یہ چھہ فٹ کے قریب قبرستان سے نیچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فصیل کے آثار اوپر نہیں ملتے۔
موجودہ ڈیرہ غازی خان ١٩١١ء ۔ ١٩١٠ء میں آباد ہوا۔ ڈیرہ غازی خان نہ صرف محل وقوع کے لحاظ سے قلب مملکت کا درجہ رکھتا ہے۔ بلکہ آثار قدیمہ سے بھی بھرا پڑا ہے۔ اگر ان کھنڈرات کی کھدائی کی جائے تو تاریخ کے گم شدہ واقعات مل سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ ڈیرہ غازی خان معدنی دولت سے بھی مالامال ہے، یہاں کوئلہ جپسم، گندھک، مٹی کا تیل، قدرتی گیس، لوہا، یورینیم، چونے کا پتھر، سرخ پتھر اور کئی قسم کی معدنیات کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، غرضیکہ ڈیرہ غازی خان کا یہ علاقہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے قلب پاکستان کہلایا جا سکتا ہے۔