شاکر شجاع آبادی
تعارف و تبصرہ: شاہد ماکلی
شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری کا ایک ایسا نام ہے جو ملکی سطح پر اپنی پہچان رکھتا ہے۔ان کی غزلیں اور دوہڑے سرائیکی عوام میں بہت مقبول ہیں۔متنوع عوامی موضوعات،منفرد اسلوب،موزوں ترین الفاظ کا چناؤ، توانالب و لہجہ اور سوز گداز شاکر کی شاعری کی ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں دیگر سرائیکی شعراء سے ممتاز و منفرد بناتی ہیں۔شاکر جسمانی طور پر مفلوج و معذور ہے مگر ذہنی ، قلبی، روحانی اور وجدانی سطح پر وہ اس قدر مضبوط و مستحکم ہے کہ اس کے باطنی سرچشموں سے پھوٹنے والی بھرپور، توانا اور تازہ کار شاعری پڑھنے والے کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری کی تاریخ کا ایک گراں قدر اضافہ ہی نہیں بلکہ سرائیکی وسیب کے ماتھے کا جھومر بھی ہے۔
شاکر شجاع آبادی 1955ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیداہوئے۔ان کے والد کا نام مولوی الله یار ہے۔ان کا اصل نام محمد شفیع ، تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔انہوں نے1986ء میں شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اورجلد ہی میں وسیب کے ادبی حلقوں میں اپنی نمایاں جگہ بنا لی۔ان کی اہم تصانیف میں” پیلے پتر ، شاکر دے ڈوہڑے ، اردو غزلیات ، پتھرموم ، شاکردیاں غزلاں ، لہودا عرق ، کلام شاکر ، خدا جانے ، بلدیاہنجوں ، منافقاں توں خدا بچاوے ، پتہ لگ ویندے“ شامل ہیں۔
ذیل میں ان کے منتخب دوہڑے دیے گئے ہیں:
(۱)
تیڈا رووَن کوڑ دا رووَن ہے، اجاں روون جو گا حال نوی
تیڈے زور جتی تیکوں بار ڈتم ڈٹھا در داں داگڑ دھال نوی
جینکوں جوڈیواں ذمے وارتاں نیں، میڈی قدرت دا بھائیوال نوی
میڈا شکوہ ہوش سنبھال تے کر، توں شاکر ہیں اقبال نوی
(۲)
میڈا دلبر پیار دیاں گالھیں ہن، گھت کنڈے تو لوں کیا فائدہ
کوئی اَ ن بن ہے تاں ساڈی ہے ،اگوں جگ دے پھولوں کیا فائدہ
توں اپنی جاہ میں اپنی جاہ ، ودے آسرے گولوں کیا فائدہ
جہڑی گنڈھ شاکر ہتھ نال کھلے، چک نال چا کھولوں کیا فائدہ
(۳)
ربا ڈہدا بیٹھاں تُرتُر کے تیڈی دنیا تے جو تھینداپے
کوئی بلھے شاہ ،کوئی مہر علی ،باہو سلطان سڈیندا پے
کوئی کوٹ مٹھن داشہزادہ وچ جگ دے ڈیکھ چمینداپے
ہک شاکر ہے تیڈی دنیا تے جیہڑا مویاں لکھے جنیداپے
(۴)
اعتبار نہ کر انہاں سوہنیاں تے اج کجھ ہوندن کل کجھ ہوندن
منہ زور مزاج دے مالک ہن، گھڑی کجھ ہوندن پل کجھ ہوندن
انھاں حسن دیاں بھریاں بوتلاں دے گل کجھ ہوندن تل کجھ ہوندن
ہِن شاکر مثل کر یہاں دے، پھُل کجھ ہوندن، پھَل کجھ ہوندن
(۵)
جیویں میکو ں آن روایا ہئی ،اینویں میں وانگوں پل پل روسیں
ہک واری روکے تھک بہیں ،ول دل ڈکھسیا، توں ول روسیں
نہ ڈکھڑے آن ونڈیسیا کوئی ،تو ں لا کندھیاں کوں گل روسیں
بس شاکر فرق معیاد دا ہے، میں اج رونداں، تو ں کل روسیں
(۶)
میں قیمتی ہاں پر بے فائدہ کہیں سُک دریادی پُل وانگوں
بیٹھا تُر تُر ڈھداں باغاں کوں کہیں کھمب کھتھڑے بلبل وانگوں
سٹیے کاوڑنال بھکا میکوں کہیں اجڑی سیج دے پھل وانگوں
میں شاکر اپنے مالک کوں ہاں یاد معمولی بھل وانگوں
(۷)
وڈی تانگھ رکھیم تیڈی عزریلا ،بیٹھاں تانگھ لہا اُتوں تو ں آگئیں
ساری عمراں روندیں گزری ہے ملئے سکھ دا سا ہ اُتوں توں آگئیں
اج قسمت ڈکھ دا شاکر کوں ڈتے گول دو اتوں توں آگئیں
مسیں قاصد یار منا کے آئے، ودا بہندا ہا اُتوں توں آگئیں
بشکریہ اردو پوائینٹ
ہیرے موتی لوگ
ڈیرہ غازی خان کی دھرتی میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی ہے، اگر کمی ہے تو حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہاں اچھے سے اچھا شاعر، اعلٰی سے اعلٰی گلوکار، مصور، مجمہ ساز، خطاط اور دستکار پڑا ہوا ہے۔ لیکن زندگی بھر ان کی شہرت اور پذیرائی ان کی شکستہ، بوسیدہ، جابجا سے آثار قدیمہ کی تصویر پیش کرتی ہوئی چاردیواری کی حدود سے آگے نہیں بڑھ پاتی، یہاں تک کہ یہیں پر گھٹ کر مر جاتی ہے۔ اس علاقے کے فنکاروں کے ساتھ یہ ظلم اور ناانصافی کیوں؟ یہ سوال برسہا برس سے ڈیرہ غازی خان کی گرد کے ساتھ کوچہ و بازار میں رسوا پھرتا ہے، مگر کوئی نہیں جو اسے جواب کے سانچے میں ڈھال کر رنگ و روپ کے اجالوں سے نکھار دے۔ اندھیرے، گمنامیاں اور ناقدری کی دھول نہ جانے کب تک ان کے چہروں کو دھندلائے رکھے گی۔ شمیم خطاط کو کون نہیں جانتا؟ جو اسی سرزمین پر برسہا برس سے خطاطی سکھا کر اپنا پیٹ پال رہا تھا، صرف دو دن پہلے ہی گمنامی کے گھپ اندھیروں میں کہیں گم ہو گیا۔ میڈا عشق وی توں، میڈا دین وی توں‘ گا کر سوز و آواز کا جادو جگانے والے پٹھانے خان مرحوم سے کون واقف نہیں، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنی آخری زندگی گزارنے والے پٹھانے خان مرحوم کے گھرانے کو دو وقت کی روٹی کے لئے آخر کار پٹھانے خان مرحوم کے ساز بجانے والے آلات کی بولی لگوانے کا سوچنا پڑا۔ کوئی ایک دکھ ہو تو بندہ رونا بھی روئے، یہاں تو دکھوں کا ایک جہان آباد ہے۔ لوگ تڑپتے پھرتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں جو ان کے درد کا درماں بنے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ جن کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر اسلام آباد اور لاہور کی عظمتوں کے سپرد کرتے ہیں وہ ان فضاؤں میں جاتے ہی زمینی لوگوں کو یوں بھول جاتے ہیں جیسے کبھی ان کے پاس لوٹ کر زمین پر نہیں آنا۔ اپنے ہی مفادات کی ہیبتناکیوں میں گم لوگو! ہوش میں آؤ اور مٹی میں ملے ہوئے ان ہیرے، موتیوں کو مٹی میں دفن ہونے سے بچا لو، ان کی چمک سے دنیا کو خیرہ کرنے کے لئے انہیں بھی وہی مواقع فراہم کرو جو تم نے لاہور، اسلام آباد اور اس جیسے دیگر علاقوں کو فراہم کیئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کے ایک علاقے پر تو نوازشات کی بارش اور دوسرا ایک قطرے کو ترستا رہے، مساوات کا دعوٰی کرتے ہو تو اس کی لاج بھی رکھو۔

