خواجہ سلیمان تونسوی

May 16, 2008 · موضوع: عشق ومعرفت · 2 تبصرے 

برصضیر پاک و ہند میں بارہویں صدی کے آخر میں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں ایک عظیم مصلح اور روحانی پیشوا پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق سلسلہ عالیہ چشتیہ سے تھا۔ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں سینکڑوں مشائخ آپ کو اپنا روحانی مورث تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کی رشدوہدایت سے برصضیر پاک و ہند کا کونہ کونہ منور ہوا، برصضیر سے باہر افغانستان، وسط ایشیا، ایران، عراق، شام اور حجاز مقدس تک آپ کا فیض پہنچا۔
ولادت و خاندان ۔
آپ کا نام محمد سلیمان ہے لوگ آپ کو “پیرپٹھان” کے نام سے پکارتے ہیں۔ آپ کے والد کا اسم مبارک زکریا بن عبدالواہاب اور والدہ کا نام بی بی ذلیخا ہے۔ آپ کے والد علم و فضل میں یکتا تھے۔ آپکی ولادت 1183ھ، 1769ء کو ضلع لورالائی کے گاؤں گڑگوجی میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت ۔
آپ نے علم دینی کی تعلیم گڑگوجی، تونسہ شریف، کوٹ مٹھن اور مہار شریف میں حاصل کی اور علوم باطنی کے لئے خواجہ نور محمد مہاروی (چشتیاں) کے دست مبارک پر بعیت کی اور خلافت حاصل سے سرفراز ہوئے۔
قیام تونسہ ۔
مرشد کے انتقال کے بعد 1214ھ، 1799ء میں گڑگوجی سے ہجرت کر کے تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان) میں مقیم ہو گئے اور خلق خدا کی رہنمائی کرنے لگے۔ آپ کا فیض عام ہو گیا اور لوگ جوق در جوق بعیت کرنے لگے۔ آپ کے تشریف لانے سے قبل تونسہ شریف سنگھڑ ندی کے کنارے چند گھروں پر مشتمل ایک غیر معروف گاؤں تھا۔ جب آپ تونسہ میں آ کر مقیم ہوئے تو یہ غیر معروف گاؤں علم و عرفان کا مرکز بن گیا اور طاؤسہ سے تونسہ شریف کہلانے لگا۔
دینی خدمات ۔
تیرہویں صدی ہجری و اٹھارویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مسلمانوں کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہونے کو تھا آخری مسلم حکومت یعنی مغلیہ سلطنت اپنی آخری سانس لے رہی تھی اس کی حدود صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی۔ مرہٹوں، جاٹوں اور سکھوں نے افراتفری مچا رکھی تھی۔ حکومت کابل کی شوکت روبہ زوال تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر سکھوں نے پنجاب پر اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ انگریز کی نظر تخت دہلی پر لگی ہوئی تھی۔ آپ نے تونسہ شریف میں عظیم علمی و دینی درسگاہ قائم کی جہاں پچاس سے زائد علماء و صوفیاء فارسی، عربی، حدیث، تفسیر، فقہ، تصوف، سائنس، طب و ہندسہ وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے۔ طلبہ کی تعداد ان مدارس میں ڈھڑھ ہزار سے زائد تھی۔ طلبہ، علماء و فقراء کو لنگرخانہ سے کھانا، کپڑے، جوتے،کتابیں، ادویہ اور دیگر تمام ضروریات زندگی ملتی ہیں۔ آپ کو درس و تدریس کا بے حد شوق تھا۔ مریدیں و خلفاء کو کتب تصوف کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ کے خلفا نے برصضیر پاک وہند کے طول وعرض میں اور اس سے باہر اپنی خانقاہیں قائم کیں۔ دینی مدارس کا اجراء کیا لنگر خانے قائم کئے۔ پاکستان میں تونسہ شریف، مکھڈشریف، ترگھ شریف، میراں شریف، گڑھی افغانان، سیال شریف، جلال پورہ، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف وغیرہ کے مدارس قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس میں نہ صرف اعلٰی درجہ کی تعلیم دی جاتی بلکہ اعلٰی درجہ کی تربیت بھی کی جاتی۔
تونسہ شریف کی خانقاہ برصضیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خانقاہوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔آپ کی علمی، دینی، اصلاحی، اخلاقی و روحانی تعلیمات نے معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ان میں عام مسلمانوں کے علاوہ علماء و صوفیاء اور روساء بھی شامل ہیں۔
علماء اور عوام کے بڑے بڑے والیاں ریاست اور جاگیردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اکثر والیاں ریاست گدی پر بیٹھتے وقت آپ کے دست مبارک سے پگڑی بندھوانے کی خواہش کرتے مگر آپ راضی نہ ہوتے۔ سنگھڑ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ریاست بہاولپور کے نواب، افغانستان سے والی ریاست شاہ شجاع محمد پوتے احمد شاہ ابدالی و میر دوست محمد والی افغانستان اور پنجاب، سرحد و افغانستان کی چھوٹی بڑی ریاستوں کے نواب کئی مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی شان میں علماء، صوفیاء اور شعراء نے عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبان میں بے شمار تذکرے، منقبتیں، قصائد اور سلام عقیدت لکھے۔
آپ نے ماہ صفرالمظفر کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات 84 برس کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے حجرہ عبادت میں دفن ہوئے۔ آپ کے مزار پر نواب بہاولپور ثالث (1825ء تا 1852ء) مرید خواجہ تونسوی نے 85 ہزار روپے کی لاگت سے ایک عالیشان مقبرہ 1270ء میں مکمل کرایا۔

Share This Post

شاکر شجاع آبادی

تعارف و تبصرہ: شاہد ماکلی

شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری کا ایک ایسا نام ہے جو ملکی سطح پر اپنی پہچان رکھتا ہے۔ان کی غزلیں اور دوہڑے سرائیکی عوام میں بہت مقبول ہیں۔متنوع عوامی موضوعات،منفرد اسلوب،موزوں ترین الفاظ کا چناؤ، توانالب و لہجہ اور سوز گداز شاکر کی شاعری کی ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں دیگر سرائیکی شعراء سے ممتاز و منفرد بناتی ہیں۔شاکر جسمانی طور پر مفلوج و معذور ہے مگر ذہنی ، قلبی، روحانی اور وجدانی سطح پر وہ اس قدر مضبوط و مستحکم ہے کہ اس کے باطنی سرچشموں سے پھوٹنے والی بھرپور، توانا اور تازہ کار شاعری پڑھنے والے کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔شاکر شجاع آبادی سرائیکی شاعری کی تاریخ کا ایک گراں قدر اضافہ ہی نہیں بلکہ سرائیکی وسیب کے ماتھے کا جھومر بھی ہے۔
شاکر شجاع آبادی 1955ء میں شجاع آباد کے علاقے چاہ ٹبے والا میں پیداہوئے۔ان کے والد کا نام مولوی الله یار ہے۔ان کا اصل نام محمد شفیع ، تخلص شاکر اور ذات سیال ہے۔ خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں۔انہوں نے1986ء میں شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اورجلد ہی میں وسیب کے ادبی حلقوں میں اپنی نمایاں جگہ بنا لی۔ان کی اہم تصانیف میں” پیلے پتر ، شاکر دے ڈوہڑے ، اردو غزلیات ، پتھرموم ، شاکردیاں غزلاں ، لہودا عرق ، کلام شاکر ، خدا جانے ، بلدیاہنجوں ، منافقاں توں خدا بچاوے ، پتہ لگ ویندے“ شامل ہیں۔
ذیل میں ان کے منتخب دوہڑے دیے گئے ہیں:
(۱)
تیڈا رووَن کوڑ دا رووَن ہے، اجاں روون جو گا حال نوی
تیڈے زور جتی تیکوں بار ڈتم ڈٹھا در داں داگڑ دھال نوی
جینکوں جوڈیواں ذمے وارتاں نیں، میڈی قدرت دا بھائیوال نوی
میڈا شکوہ ہوش سنبھال تے کر، توں شاکر ہیں اقبال نوی
(۲)
میڈا دلبر پیار دیاں گالھیں ہن، گھت کنڈے تو لوں کیا فائدہ
کوئی اَ ن بن ہے تاں ساڈی ہے ،اگوں جگ دے پھولوں کیا فائدہ
توں اپنی جاہ میں اپنی جاہ ، ودے آسرے گولوں کیا فائدہ
جہڑی گنڈھ شاکر ہتھ نال کھلے، چک نال چا کھولوں کیا فائدہ
(۳)
ربا ڈہدا بیٹھاں تُرتُر کے تیڈی دنیا تے جو تھینداپے
کوئی بلھے شاہ ،کوئی مہر علی ،باہو سلطان سڈیندا پے
کوئی کوٹ مٹھن داشہزادہ وچ جگ دے ڈیکھ چمینداپے
ہک شاکر ہے تیڈی دنیا تے جیہڑا مویاں لکھے جنیداپے
(۴)
اعتبار نہ کر انہاں سوہنیاں تے اج کجھ ہوندن کل کجھ ہوندن
منہ زور مزاج دے مالک ہن، گھڑی کجھ ہوندن پل کجھ ہوندن
انھاں حسن دیاں بھریاں بوتلاں دے گل کجھ ہوندن تل کجھ ہوندن
ہِن شاکر مثل کر یہاں دے، پھُل کجھ ہوندن، پھَل کجھ ہوندن
(۵)
جیویں میکو ں آن روایا ہئی ،اینویں میں وانگوں پل پل روسیں
ہک واری روکے تھک بہیں ،ول دل ڈکھسیا، توں ول روسیں
نہ ڈکھڑے آن ونڈیسیا کوئی ،تو ں لا کندھیاں کوں گل روسیں
بس شاکر فرق معیاد دا ہے، میں اج رونداں، تو ں کل روسیں
(۶)
میں قیمتی ہاں پر بے فائدہ کہیں سُک دریادی پُل وانگوں
بیٹھا تُر تُر ڈھداں باغاں کوں کہیں کھمب کھتھڑے بلبل وانگوں
سٹیے کاوڑنال بھکا میکوں کہیں اجڑی سیج دے پھل وانگوں
میں شاکر اپنے مالک کوں ہاں یاد معمولی بھل وانگوں
(۷)
وڈی تانگھ رکھیم تیڈی عزریلا ،بیٹھاں تانگھ لہا اُتوں تو ں آگئیں
ساری عمراں روندیں گزری ہے ملئے سکھ دا سا ہ اُتوں توں آگئیں
اج قسمت ڈکھ دا شاکر کوں ڈتے گول دو اتوں توں آگئیں
مسیں قاصد یار منا کے آئے، ودا بہندا ہا اُتوں توں آگئیں

بشکریہ اردو پوائینٹ

Share This Post

« پچھلا صفحہاگلا صفحہ »