ونی

May 28, 2008 · موضوع تازہ ترین 

آس آف والے واقعہ کے بعد ایک اور کہرام روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق 10سالہ طالبہ کے ساتھ 73سالہ شخص کی شادی کے سکینڈل میں سیشن جج ڈیرہ غازی خان نے فریقین کو 4 جون کو طلب کر لیا ہے۔ تفصیل کے مطابق 23 مئی کو قصبہ پائیگاہ کے زمیندار 73 سالہ سردار جان محمد ڈوگر نے چوتھی جماعت کی طالبہ 10سالہ مریم بی بی کے ساتھ اسکی والدہ کی مرضی سے ڈیرہ غازی خان آکر نکاح کر لیا۔ ادھر لڑکی کے بھائی محمد ندیم نے اسی روز تھانہ صدر میں زمیندار جان محمد ڈوگر پر 20 ہزار روپے کے مویشی چوری کا مقدمہ درج کرادیا۔ بعدازاں محمد ندیم نے ایک رٹ دائر کرتے ہوئے موٴقف اختیار کیا کہ سردار جان محمد ڈوگر کے ڈیرے پر نام نہاد پنچائت ہوئی اور چٹی کی صورت میں میرے وراثتی مکان پر قبضہ اور میری نابالغ بہن مریم بی بی کو ونی کے طور پر بوڑھے سے بیاہ دیا گیا۔ دوسری طرف ملزم جان محمد نے کہا ہے کہ میں نے اس لڑکی کی پرورش کی تھی اور شرعی نکاح کیا ہے۔ مریم بی بی کی والدہ حمیدہ نے کہا کہ میں نے خوشی اور اپنی مرضی سے رشتہ طے کیا ہے۔ جان محمد ڈوگر نے اپنی رٹ میں موٴقف اختیار کیا ہے کہ اس کے بھتیجے صلاح الدین ڈوگر نے میری کروڑوں کی جائیداد پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

Share This Post

وہاج دا انت

May 10, 2008 · موضوع لوک کہانی 

سرائیکی وسیب میں موجود ہندوؤں کو ‘کراڑ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عموما نجی ساہو کاری سے وابستہ رہے ہیں اور اس حوالے سے کئی لوک کہانیاں وجود میں آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ہندوؤں نے پنچائت بلائی اور آپس میں مشورہ کیا کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی پوجا کے لئے ایک مندر تعمیر کرنا چاہیے۔ پس انہوں نے مندر بنایا اور اکھٹے ہو کر پوجا کرنے اور بھجن گانے لگے؛
“دیوا تارن آیا، سنو میڈے سادھو!
دیوا تارن آیا او بھائی راما!
دیوا تارن آئے“
( مولا ہمیں ترقی اور خوشحالی دینے آیا ہے بھائیو! سن لو ہمیں ترقی دینے آیا ہے۔ بھائی رام! مولا ہمیں ترقی دینے آیا ہے)
ایک دن مندر میں وہ یہی بھجن گا رہے تھے کہ انہیں خبر ہوئی کہ دور دراز سے کوئی بڑا بیوپاری آیا ہے۔ وہ اپنی پوجا چھوڑ کر فورا باہر آئے اور بیوپاری سے دھڑادھڑ بھاری بھر قیمت والی اشیاء خریدنے لگے۔ جب انہوں نے خریداری مکمل کر لی تو اچانک انہیں اطلاع ملی کہ ان کی خرید کردہ اشیاء کی قیمت گر گئی ہے۔ اس پر سب لوگ اپنا سر پیٹ کر رہے گئے۔ دوبارہ مندر میں گئے اور اپنے گلے میں اجتجاجا پٹہ ڈال کر دیوتا کے آگے یہ بھجن گانے لگے؛
“دیوا گالن آئے، او بھائی سادھو!
دیوا گالن آئے“
( مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے، بھائیو! مولا ہمیں برباد کرنے آیا ہے)
اس بیوپار سے نقصان اٹھانے کے فورا بعد انہیں کسانوں کا لین دین یاد آ گیا۔ اپنا نقصان پورا کرنے کے لئے انہوں نے ایک کسان کو پکڑ لیا اور اسے کہنے لگے؛
“ سن بیلی! ٹکا تیل والا تے ٹکے دا تیل، آناں دال والا تے آنے دی دال“
( سنو بھائی! ایک ٹکا تیل والا اور ایک ٹکے کا تیل، ایک ٹکا دال کا اور ایک ٹکے کی دال)
اس طرح انہوں نے حساب دوگنا کر دیا اور دیگر اشیاء جو کسان نے ان سے خریدی تھیں کی قیمت بتانے لگے کہ دو آنے کا صابن اور دو آنے صابن کے، ٹکے کا مشک اور ٹکا مشک والا، ایک پیسے کی ملتانی مٹی اور ایک پیسہ ملتانی مٹی والا، بارہ آنے کا دوپٹہ اور بارہ آنے دوپٹے کے، آٹھ آنے کی قمیص اور آٹھ آنے قمیص کے، ڈیڑھ روپے کی پگڑی اور ڈیڑھ روپے پگڑی والے، روپے کا کرتا اور روپیہ کرتے کا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح وہ اس کسان کو سارا ادھار بتلا کر کہنے لگے کہ تمھارے ذمے ٢٩ روپے رقم اور ساڑھے تین من غلہ ہے، سو اب سود سمیت تم ٧٠ روپے رقم اور پانچ من غلہ دو گے۔ اس کے بعد انہوں نے کسان اس ادھار کا اسٹامپ بھی لکھوا لیا۔ جب فصل اٹھانے کا وقت آیا تو کسان کی ساری فصل وہ اپنے گدھوں پر لاد کر گھر لے گئے اور جاتے ہوئے اس کہہ گئے ؛
“ آویں تے حساب سمجھ ونجیں“
( گھر آ جانا اور حساب سمجھ لینا)
جب کسان ادھار سے متعلق ان کو دی ہوئی اپنی فصل کی پیداوار کا حساب سمجھنے کے لئے ان کے گھر گیا تو انہوں نے گزشتہ اور موجودہ دو فصلوں کا حساب ملا کر ٥٠ روپے رقم اور بارہ من غلہ مزید کسان کے کھاتے میں لکھ کر اسے خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔

ایف ڈبلیو سکیمپ کی لاطینی رسم الخط میں لکھی گئی سرائیکی کتاب ‘ ملتانی سٹوریز‘ سے انتخاب

Share This Post